اسلام ناب محمدی

ساخت وبلاگ
*امریکی مفکر فرانسس "فوکویاما":* *شیعہ کون..؟؟* شیعہ ایک ایسا پرندہ ہـے جس کے دو مضبوط پَر ہیں: ایک سُرخ پر *(امام حُسین ع)* دوسرا سَبز پر *(امام زمانہ)* سُرخ پر: شہادت کی آرزو ہے جس کی جڑیں کربلا میں ہیں۔ یہ آرزو انہیں جُھکنے نہیں دیتی۔ سبز پر: مہدویت پہ ایمان ہے۔ شیعہ عدل و انصاف قائم ہونے کے منتظر و امیدوار ہیں اور جو امیدوار ہو کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔ اس پرندہ نے ایک مضبوط زرہ پہن رکھی ہے جس کا نام *"ولایت فقیہ"* ہے۔ یہ زرہ دونوں پَروں کی محافظ ہے۔ شیعہ مذہب ان پروں اور زرہ کے ذریعے اتنی بلندی پہ پرواز کر رہا ہے کہ ہمارے سیاسی، اقتصادی، معاشی، ثقافتی اور اخلاقی زہر آلود تیر اس تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ *"ولایت فقیہ"* کی وجہ سے شیعہ قوم ایک "ناقابل شکست" قوم بن چکی ہے۔ جب تک ولایت فقیہ کا خاتمہ نہ ہو یا اسے مشکوک نہ بنایا جائے، ہم شیعوں سے نہ امام حُسین ع لے سکتے ہیں نہ ہی امام زمانہ ع عج چھین سکتے ہیں۔ *(1980 کی دہائی میں اسرائیل میں منعقدہ شیعہ مطالعاتی کانفرنس سے اقتباس)* اسلام ناب محمدی...
ما را در سایت اسلام ناب محمدی دنبال می کنید

برچسب : نویسنده : eislam-e-naba بازدید : 25 تاريخ : چهارشنبه 13 دی 1402 ساعت: 18:40

کلمہ میں عقیدہ بیان کیا جاتا ہے اس لیے اس میں مزید گنجائش بھی ہے کہ آپ بارہ امام بھی شامل کر سکتے ہیں عدل و قیامت کا تذکرہ کر سکتے ہیں۔اذان میں بھی ہم علی ولی اللہ جزء سمجھ کر نہیں پڑھتے بلکہ برکت اور ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں چونکہ اذان میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اذان باطل نہیں ہوتی۔ ویسے بھی اذان کے دوران اگر کوئی بات کرتا ہے تو اذان باطل بھی نہیں ہوتی۔ کلمہ اور اذان بغیر وضو کے بھی پڑھے جا سکتے ہیں لیکن نماز بغیر وضو کے باطل ہو جاتی ہے۔مسئلہ نماز میں ہے۔ نماز عقیدے کے بیان کی جگہ نہیں۔ نماز میں اپنی مرضی سے آپ قرآن بھی نہیں پڑھ سکتے مثلا نماز میں سجدے والی آیت پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی۔ اس لیے کہ ہمیں جیسے نماز پڑھنے کا حکم ہے ویسے ہی بجا لانی ہے۔ اپنی مرضی کو نماز میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔جب نماز میں قرآن اپنی مرضی سے شامل نہیں کیا جاسکتا تو مولا کا نام بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں کرنا چاہیے چونکہ انہی معصوم ہستیوں نے بتایا ہے کہ : صلوا کما رایتمونی اصلی ۔ نماز ایسے پڑھو جیسے ہمیں پڑھتے دیکھا ہے۔نماز میں علی ولی اللہ صرف پاکستانی شیعوں میں لڑائی و جدائی کے لیے دشمن کی سازش ہے۔ ایران میں چھ کروڑ شیعہ ، عراق میں 5 کروڑ ، لبنان میں بیس لاکھ ، بحرین میں چار لاکھ ، آذربائیجان میں تیس لاکھ ، ہندوستان میں پانچ کروڑ شیعوں میں سے کوئی ایک عام یا خاص مومن یا مومنہ نماز میں علی ولی اللہ نہیں پڑھتا۔ نیز قم المقدس ، نجف اشرف ، مشہد مقدس ، مدینہ منورہ ، کربلائے معلی ، بی بی زینب کے پاک حرموں میں کسی ایک جگہ تشہد میں مولا کا نام نہیں لیا جاتا۔ کیا ان سب کی نماز باطل ہے ؟ اور پاکستان کے بھی تمام علماء کرام ، بہت سے ذاکرین عظام اور عوام کی واضح اکثریت نہیں پڑھتی صرف چند نام نہاد ذاکروں نے اسلام ناب محمدی...
ما را در سایت اسلام ناب محمدی دنبال می کنید

برچسب : نویسنده : eislam-e-naba بازدید : 66 تاريخ : چهارشنبه 30 فروردين 1402 ساعت: 14:36

ولایت فقیه در قرآنتقریبا 200 آیات بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومت کے بارے برای اثبات ولایت مطلقه فقیه از قرآن باید مسائل زیر را از قرآن به دست آورد:1ـ اصل حکومت و ولایت در اسلام.اگر دین و سیاست جدا ہیں تو قرآن میں سینکڑوں آیات نکالنی پڑیں گی جیسا کہ بعض لوگوں نے نکالی بھی ہیں مشرف و ہندی شیعہ مرتد ۔۔۔ابھی فرض کریں زمان پیغمبر۔ ایک لشکر کو نبی بھیجتے ہیں کسی کی قیادت میں تو کیا اس اطاعت واجب ؟ تو غیبت میں بھی عقل ۔۔۔۔ کہ ان نبی یا امام معصوم کے نزدیک ترین ہستی کو ۔۔۔۔ 2ـ اطلاق ولایت.3ـ شرایط حاکم: یعنی اسلام و ایمان، عدالت و آگاهی به اسلام (فقاهت) و کفایت.1ـ اصل حکومت و ولایت در اسلاملزوم حکومت در هر جامعه ای از بدیهیات است و نیازی به دلیل ندارد در این جا فقط به آیاتی که ولایت پیامبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم و امامان معصوم علیهم السلام را ثابت می کند اشاره می کنیم.« النَّبِی أَوْلی بِالْمُؤْمِنینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ـ پیامبر نسبت به مؤمنان از خودشان سزاوارتر است. » (احزاب/6) پس اگر تصمیمی درباره ی آنان گرفت اطاعت از آن بر مردم لازم است.هنگامى كه فرمان پيامبر صلى الله عليه و آله در مورد حركت براى جنگ تبوك صادر شد، بعضى گفتند: ما بايد از والدين خود اجازه بگيريم. اين جمله نازل شد كه‌ «النَّبِيُّ أَوْلى‌ بِالْمُؤْمِنِينَالنّاس‌ مسلطون‌ ‌علي‌ اموالهم‌ و انفسهم‌»والذّى نفسى بيده لا يؤمن احدكم حتّى اكون احَبَّ اليه من نفسه و ماله و ولده والناس اجمعينالست‌ اولي‌ بالمؤمنين‌ ‌من‌ انفسهم‌ قالوا بلي‌ ‌ يا ‌ ‌رسول‌ اللّه‌ ‌فقال‌ ‌من‌ كنت‌ موليه‌ فهذا ‌علي‌ مولاه‌»ثعلبی در این‌باره می‌نویسد:فشاع ذلک وطار فی البلاد، فبلغ ذلک الحارث بن النعمان القهری، فاتی رسول اللّه علی ناقة له حتی اتی الابط اسلام ناب محمدی...
ما را در سایت اسلام ناب محمدی دنبال می کنید

برچسب : نویسنده : eislam-e-naba بازدید : 68 تاريخ : شنبه 26 فروردين 1402 ساعت: 11:05

مجله حسنا بهار 1389 - شماره 4 معناشناسی واژه «رب» نویسنده : نسرین کردنژاد34 چکیده واژه «رب» از ریشه «ر ب ب» از جمله واژه های دخیل در قرآن است. این واژه در قرآن علاوه بر معنای وضعی و اولیه به معنای دیگری نیز به کار رفته است، همچنان که در کلام عرب نیز معانی دیگری علاوه بر مفهوم قرآنی دارد. این نوشتار بر آن است تا ضمن اشاره به چگونگی پیدایش این لفظ و به دست آوردن معنای وضعی و اولیه آن، سیر تطور معنایی و چگونگی استعمال آن در معانی دیگر چون صاحب، مالک، پروردگار و غیره را بررسی کند و وجه ارتباط این معانی را با معنای اصلی تبیین و تشریح نماید بدین منظور، مطالب در دو قسمت «معناشناسی تاریخی» و «معناشناسی توصیفی» بیان شده است. براساس تتبع نویسنده، واژه رب از زبان عبری وارد عربی شده است. این واژه در استعمال اولیه به معنای «پادشاه» به کار رفته است و سپس در جوامع مسیحی سوری به معنای خداوند تحول یافته است. در قرآن کریم به رغم کاربرد زیاد این واژه، تنها به دو وجه معنایی «پادشاه» و «خداوند» استعمال شده و این در حالی است که در کلام عرب علاوه بر این معانی به معنای «صاحب و مالک» نیز آمده است. کلید واژه : رب، رب النوع، معناشناسی توصیفی، معناشناسی تاریخی. مقدمه برخی از واژه های قرآن غریب و دور از فهم است. منشاء اصلی پیدایش غرابت، راهیابی الفاظ از سایر قبایل عرب به قبیله قریش است. به این واژه ها واژه های دخیل می گویند. دست یابی به معنای دقیق این واژه ها چه معنای اصلی که لفظ در ابتدا برای آن وضع شده و چه معنای استعمالی که لفظ در جمله به خود می گیرد و در مواردی غیر از معنای وضعی است، زمانی مقدور است که ضمن توجه به بافت کلام، چگونگی پیدایش و زایش آن لغات و نیز منظور آنها در طول زمان ها و عصرها توجه شو اسلام ناب محمدی...
ما را در سایت اسلام ناب محمدی دنبال می کنید

برچسب : نویسنده : eislam-e-naba بازدید : 66 تاريخ : شنبه 26 فروردين 1402 ساعت: 11:05

ولایت فقیه در قرآن تقریبا 200 آیات بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومت کے بارے برای اثبات ولایت مطلقه فقیه از قرآن باید مسائل زیر را از قرآن به دست آورد: 1ـ اصل حکومت و ولایت در اسلام. اگر دین و سیاست جدا ہیں تو قرآن میں سینکڑوں آیات نکالنی پڑیں گی جیسا کہ بعض لوگوں نے نکالی بھی ہیں مشرف و ہندی شیعہ مرتد ۔۔۔ 2ـ اطلاق ولایت. 3ـ شرایط حاکم: یعنی اسلام و ایمان، عدالت و آگاهی به اسلام (فقاهت) و کفایت. 1ـ اصل حکومت و ولایت در اسلام لزوم حکومت در هر جامعه ای از بدیهیات است و نیازی به دلیل ندارد در این جا فقط به آیاتی که ولایت پیامبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم و امامان معصوم علیهم السلام را ثابت می کند اشاره می کنیم. « النَّبِی أَوْلی بِالْمُؤْمِنینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ـ پیامبر نسبت به مؤمنان از خودشان سزاوارتر است. » (احزاب/6) پس اگر تصمیمی درباره ی آنان گرفت اطاعت از آن بر مردم لازم است. « وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَی اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ یکونَ لَهُمُ الْخِیرَةُ مِنْ أَمْرِهِم ـ هیچ مرد و زن با ایمانی حق ندارد هنگامی که خدا و پیامبرش امری را لازم بدانند، اختیاری (در برابر فرمان خدا) داشته باشد» (احزاب/36) و بعضی از آیاتی که امر به اطاعت از پیامبرکرده است: « قُلْ أَطِیعُواْ اللَّهَ وَ الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا یحُِبُّ الْکافِرِین ـ بگو: از خدا و فرستاده (او)، اطاعت کنید! و اگر سرپیچی کنید، خداوند کافران را دوست نمی دارد.» (آل عمران/32) « وَ أَطِیعُواْ اللَّهَ وَ الرَّسُولَ لَعَلَّکمْ تُرْحَمُون ـ و خدا و پیامبر را اطاعت کنید، تا مشمول رحمت شوید.» (آل عمران/132) « وَ أَطِیعُواْ اللَّهَ وَ أَطِیعُواْ الرَّسُولَ وَ احْذَرُواْ ـ اطاعت خ اسلام ناب محمدی...
ما را در سایت اسلام ناب محمدی دنبال می کنید

برچسب : نویسنده : eislam-e-naba بازدید : 72 تاريخ : جمعه 4 فروردين 1402 ساعت: 21:39